حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، منجی پر ایمان تقریباً تمام آسمانی اور غیر آسمانی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار بحران آئے جنہوں نے انسانیت کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا، اور انسان اکیلا ان کا مقابلہ نہ کر سکا۔ یہی حالات مختلف مذاہب میں منجی کے تصور کے وجود کا سبب بنے۔ چونکہ منجی کے ظہور کو عدل کے قیام، ظلم کے خاتمے اور امن کے فروغ سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے ہر مذہب کے پیروکار اس کے منتظر رہتے ہیں۔
منجی کے ظہور سے محبت اور شوق مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ میڈیا براہِ راست افراد پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار، رویّوں اور طرزِ فکر کو بھی تشکیل دیتا ہے۔
ہالیووڈ اور آخری الزمان کا تصور
سال 1990ء کے بعد ہالیووڈ کی فلموں میں آہستہ آہستہ آخری زمانے اور منجی سے متعلق موضوعات کو نمایاں کیا جانے لگا۔ مختلف قدرتی آفات، زلزلے، سیلاب، شدید سردی، سانس کی بیماریاں، سورج کی شعاعیں، مصنوعی ذہانت، ایٹمی ہتھیار، مالی بحران، خلائی مخلوق، بانجھ پن اور دیگر اسباب کے ذریعے زمین کی تباہی کو دکھایا گیا۔
عورتیں: زمین پر باقی رہنے والی واحد مخلوق
ہالی وُڈ کی سیریز The Last Man میں دکھایا گیا ہے کہ ایک پراسرار بیماری سے تمام مرد مر جاتے ہیں اور صرف ایک مرد باقی رہ جاتا ہے، جبکہ عورتیں زمین پر انسانی نسل کی واحد نمائندہ بن جاتی ہیں اور سماجی و سیاسی مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔
بظاہر یہ فلمیں تفریح کے لیے بنائی جاتی ہیں، مگر ان کے پیچھے خاص فکری اور نظریاتی مقاصد بھی ہوتے ہیں۔
انسانی کامیابیوں پر بھروسہ، نجات کا واحد راستہ
ہالی وُڈ کی کئی فلموں میں غیر الٰہی منجی کو دکھایا جاتا ہے۔ 2024ء کی سیریز Fallout میں ایٹمی جنگ کے بعد کی زندگی دکھائی گئی ہے، جہاں نہ مذہب کا ذکر ہے اور نہ خدا پر بھروسہ، بلکہ صرف انسانی وسائل کو نجات کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
منجی کے بارے میں مغربی انسان پرستانہ نظریہ
سال 2013ء کی فلم Snowpiercer میں چند لوگ ایک ٹرین میں رہتے ہیں جہاں شدید طبقاتی فرق موجود ہے۔ نچلے طبقے کے رہنما کو منجی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے غلط فیصلوں سے سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ اس فلم میں خدائی منجی کا کوئی تصور نہیں ملتا۔
ایک امریکی خاندان: دنیا کا نجات دہندہ
اینیمیشن The Mitchells vs. The Machines میں ایک امریکی خاندان روبوٹس کے خلاف لڑ کر دنیا کو بچاتا ہے۔ اگرچہ خاندان کی اہمیت کو اچھے انداز میں دکھایا گیا ہے، لیکن یہاں بھی آسمانی منجی کا تصور موجود نہیں۔
بعد از قیامت معاشروں کی خصوصیات (حصہ اول)
ہالیووڈ کی بعد از قیامت فلموں میں انسان کو قبائلی اور وحشی زندگی کی طرف لوٹتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ سیریز SEE میں لوگ مختلف قبائل میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔
بعد از قیامت معاشروں کی خصوصیات (حصہ دوم)
ان فلموں میں شدید طبقاتی فرق دکھایا جاتا ہے۔ سیریز Silo میں لوگ زیرِ زمین رہتے ہیں، جہاں امیر اور غریب میں واضح فرق ہوتا ہے۔ یہی صورتحال Snowpiercer میں بھی نظر آتی ہے۔
بعد از قیامت معاشروں کی خصوصیات (حصہ سوم)
ان فلموں میں خوف، پریشانی اور عدم تحفظ غالب ہوتا ہے۔ فلم Finch میں ایک شخص خطرات کے درمیان جینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام مستقبل کو روشن اور پُرامن بتاتا ہے، جہاں امام مہدیؑ کی حکومت میں مکمل امن ہوگا۔
انفرادی نجات سے اجتماعی نجات تک
مغربی سینما میں اب نجات ایک فرد کے بجائے ایک ٹیم کے ذریعے دکھائی جاتی ہے۔ پہلے ایک ہیرو دنیا بچاتا تھا، جیسے Matrix کا نیو، لیکن اب مارول جیسی فلموں میں کئی ہیرو مل کر کام کرتے ہیں۔
جب ہالیوُوڈ منجی سے اکتا جاتا ہے
اب کئی فلموں میں منجی کو ناکام یا نقصان دہ دکھایا جاتا ہے۔ بعض اوقات دنیا بچتی ہی نہیں۔ Dont Look Up اور Dune جیسی فلمیں اسی رجحان کی مثال ہیں۔ یہ مغربی معاشرے کے روحانی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔
(واضح رہے کہ اس تنقید کا تعلق اسلامی منجی سے نہیں بلکہ مجموعی منجی تصور سے ہے۔)
آج کا ہالیوُوڈ: فکری تقسیم کا شکار
آج ہالیوُوڈ دو نظریات میں بٹا ہوا ہے: ایک طرف انسانی منجی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف منجی کے تصور کو ہی ختم کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ مایوسی اور بے یقینی کی صورت میں نکل رہا ہے۔
جاری۔۔۔
نوٹ: یہ مضمون حوزہ علمیہ قم کے مرکزِ تخصصی مهدویت (گروہ غرب و مهدویت) کی جانب سے تیار کیا گیا ہے، جسے معمولی تبدیلی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ